محمد جوناگڑھی — 521
51:7 قسم ہے راہوں والے آسمان کی.[1]
51:8 یقیناً تم مختلف بات میں پڑے ہوئے ہو.[1]
51:9 اس سے وہی باز رکھا جاتا ہے[1] جو پھیر دیا گیا ہو.
51:10 بے سند باتیں کرنے والے غارت کر دیئے گئے.
51:11 جو غفلت میں ہیں اور بھولے ہوئے ہیں.
51:12 پوچھتے ہیں کہ یوم جزا کب ہوگا؟
51:13 ہاں یہ وه دن ہے کہ یہ آگ پر تپائے جائیں گے.[1]
51:14 اپنی فتنہ پردازی کا مزه چکھو[1] ، یہی ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے.
51:15 بیشک تقویٰ والے لوگ بہشتوں اور چشموں میں ہوں گے.
51:16 ان کے رب نے جو کچھ انہیں عطا فرمایا ہے اسے لے رہے ہوں گے وه تو اس سے پہلے ہی نیکوکار تھے.
51:17 وه رات کو بہت کم سویا کرتے تھے.[1]
51:18 اور وقت سحر استغفار کیا کرتے تھے.[1]
51:19 اور ان کے مال میں مانگنے والوں کا اور سوال سے بچنے والوں کا حق تھا.[1]
51:20 اور یقین والوں کے لئے تو زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں.
51:21 اور خود تمہاری ذات میں بھی، تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو.
51:22 اور تمہاری روزی اور جو تم سے وعده کیا جاتا ہے سب آسمان میں ہے.[1]
51:23 آسمان وزمین کے پروردگار کی قسم! کہ یہ[1] بالکل برحق ہے ایسا ہی جیسے کہ تم باتیں کرتے ہو.
51:24 کیا تجھے ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کی خبر بھی پہنچی ہے؟[1]
51:25 وه جب ان کے ہاں آئے تو سلام کیا، ابراہیم نے جواب سلام دیا (اور کہا یہ تو) اجنبی لوگ ہیں.[1]
51:26 پھر (چﭗ چاپ جلدی جلدی) اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ایک فربہ بچھڑے (کا گوشت) ﻻئے.
51:27 اور اسے ان کے پاس رکھا اور کہا آپ کھاتے کیوں نہیں.[1]
51:28 پھر تو دل ہی دل میں ان سے خوفزده ہوگئے[1] انہوں نے کہا آپ خوف نہ کیجئے[2]۔ اور انہوں نے اس (حضرت ابراہیم) کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی.
51:29 پس ان کی بیوی آگے بڑھی اور حیرت[1] میں آکر اپنے منھ پر ہاتھ مار کر کہا کہ میں تو بوڑھیا ہوں اور ساتھ ہی بانجھ.
51:30 انہوں نے کہا ہاں تیرے پروردگار نے اسی طرح فرمایا ہے، بیشک وه حکیم وعلیم ہے.[1]